16 ستمبر 2026 - 15:42
جنوبی لبنان کا بنت جبیل شہر ملبے کا ڈھیر، 80 فیصد علاقہ تباہ

جنوبی لبنان کے شہر بنت جبیل میں 80 فیصد سے زائد عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں جبکہ 2 ہزار سے زائد عمارتیں ملبے میں تبدیل کردی گئی ہیں، جو کم از کم 5 ہزار رہائشی یونٹس کے برابر ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جنوبی لبنان کے شہر بنت جبیل میں ہر 10 میں سے 8 گھر صیہونی ریاست کے حملوں میں تباہ ہوگئے ہیں۔ شہر کا 80 فیصد سے زائد حصہ مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے جبکہ 2 ہزار سے زائد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں۔ یہ تعداد کم از کم 5 ہزار رہائشی یونٹس کے برابر ہے۔ بنت جبیل کی بلدیہ کے مطابق شہر کے باقی ماندہ شہری ڈھانچے کو بھی جزوی نقصان پہنچا ہے۔

لبنانی اخبار الاخبار کی رپورٹ کے مطابق، بنت جبیل کے خلاف صیہونی ریاست کی تباہ کاریوں کی سنگینی واضح کرنے کے لیے شہر کی بلدیہ نے بتایا ہے کہ شہر کے 11 تعلیمی مراکز مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں جبکہ اسپتال اور امدادی مراکز بھی نقصان سے محفوظ نہیں رہے۔ شہر میں پانی اور بجلی کے نظام تباہ ہوگئے، بازار کی سیکڑوں دکانیں ختم ہوگئیں جبکہ زرعی زمینیں اور قدیم درخت بھی تباہ کردیئے گئے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں صیہونی ریاست نے بنت جبیل کو ایک ایسے علاقے میں تبدیل کردیا ہے جہاں رہنا ممکن نہیں رہا۔

یہ اعداد و شمار بنت جبیل کی بلدیہ کی تیار کردہ رپورٹ ’’بنت جبیل؛ جرائم کی یاد‘‘ میں شامل ہیں۔ اس رپورٹ میں 2023 سے 2026 کے دوران صیہونی ریاست کی جارحیت سے ہونے والے نقصانات کو نقشوں، فضائی تصاویر، زمینی جائزوں، بلدیہ کے ریکارڈ اور متاثرہ رہائشیوں، مراکز اور اداروں کے مالکان کے بیانات کی بنیاد پر دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صیہونی ریاست نے بنت جبیل میں تباہی کی تین شکلیں پیدا کیں، جن میں گھروں کی تباہی، تاریخی و اجتماعی یادگاروں کا مٹ جانا اور زمینوں کو تباہ کرنا شامل ہے۔

1500 خاندان بے گھر، گھروں کی ملکیت میں شدید کمی

رپورٹ کے مطابق بنت جبیل میں رہنے والے شہری اپنے تمام اثاثے کھو چکے ہیں جبکہ بے گھر ہونے والے خاندانوں کی تعداد 1500 سے تجاوز کرچکی ہے۔ جنگ سے قبل شہر کے 81 فیصد خاندان اپنے گھروں کے مالک تھے، لیکن اب یہ شرح کم ہوکر صرف 3 فیصد رہ گئی ہے۔ اس کے برعکس کرائے کے گھروں میں رہنے والے خاندانوں کی شرح بڑھ کر 74.6 فیصد ہوگئی ہے۔

بنت جبیل؛ تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے والا شہر

صیہونی ریاست نے صرف بنت جبیل کے شہری ڈھانچے کو تباہ نہیں کیا بلکہ شہر کو اس حد تک ناقابلِ رہائش بنا دیا ہے کہ اگر قابض فوجیں آج ہی یہاں سے نکل جائیں تب بھی شہر میں معمول کی زندگی کی بحالی آسان نہیں ہوگی۔

بنت جبیل کی بلدیہ سے وابستہ صف الہوا اور البرکہ کے علاقوں میں بجلی فراہم کرنے والے دونوں مراکز، جن میں مجموعی طور پر 13 بجلی پیدا کرنے والے جنریٹر تھے، تباہ کردیئے گئے ہیں۔ شہر کا اندرونی بجلی اور پانی کا نظام بھی مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔

صف الہوا کے پانی کے مرکز میں 900 مکعب میٹر گنجائش رکھنے والا ایک ذخیرہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا جبکہ 2 ہزار مکعب میٹر گنجائش رکھنے والے دوسرے ذخیرے کو نقصان پہنچا ہے۔ اس مرکز کو فعال رکھنے اور 8 قصبوں کو پانی فراہم کرنے والا شمسی توانائی کا نظام بھی تقریباً مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔

5 ہزار گھر تباہی کی فہرست میں شامل

رہائشی علاقوں میں بنت جبیل کی بلدیہ نے بتایا ہے کہ نقصانات کی شدت کو صرف بڑے پیمانے پر تباہی قرار دینا کافی نہیں ہوگا۔ بلدیہ نے تباہ ہونے والے رہائشی یونٹس کی تعداد تقریباً 5 ہزار بتائی ہے۔

صرف بنت جبیل کے مرکزی علاقے میں عین الصغیرہ، الجامع اور البرکہ کے محلوں، قدیم چوک اور الجماعہ کے علاقے میں 500 سے زائد عمارتیں تباہ ہوئی ہیں۔ شہر کی جامع مسجد، جس کی عمارت 400 سال سے زیادہ پرانی تھی، بھی تباہی سے محفوظ نہیں رہ سکی۔

بنت جبیل کے مغربی حصے میں العوینی، القلاع، تل مسعود، شلعبون اور صف الہوا کے علاقوں کو بھی تباہی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ شہر کے مشرقی حصے میں عین الکبیرہ اور ا

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha